سلطان العاشقین: سلطان الفقر ہفتم
Sultan-ul-Ashiqeen Sultan-ul-Faqr VII
سلطان الفقر وہ عظیم المرتبت ہستی ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے امانتِ الٰہیہ، فقرِ محمدی اور معرفتِ الٰہی کا امین بناتاہے۔ ان برگزیدہ ہستیوں کا مقصد مخلوقِ خدا کو ظاہر پرستی، دنیا پرستی اور نفس کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی پہچان، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، باطنی پاکیزگی اور قربِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ اللہ نے سات سلطان الفقر ہستیاں پیدا فرمائیں ۔ ساتویں سلطان الفقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس ہیں۔
ولادتِ باسعادت اور ابتدائی زندگی
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس 19 اگست 1959ء، (14 صفر 1379ھ) کو صبح چار بجے تحصیل چشتیاں، ضلع بہاولنگر میں پیدا ہوئے۔ والدِ محترم نے آپ کا نام “نجیب الرحمٰن” رکھا۔ آپ مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات میں بچپن ہی سے ولایت، قربِ خداوندی کی نشانیاں ظاہر تھیں۔آپ مدظلہ الاقدس کی تربیت ایک پاکیزہ اور دیندار ماحول میں ہوئی۔ والدہ محترمہ کی شفقت، والد محترم کی تربیت اور خاندانی اقدار نے آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت کی بنیاد میں پاکیزگی اور اخلاص کو راسخ کیا۔
تلاشِ حق اور باطنی بے قراری
دنیاوی زندگی میں کامیابی کے باوجود آپ مدظلہ الاقدس کے باطن میں حق کی تلاش کی ایک شدید تڑپ موجود تھی۔ ظاہری آسائشوں کے باوجود دل کو سکون میسر نہ تھا۔ یہ بے قراری دراصل حقیقت کی تلاش، اللہ تعالیٰ کےوصال کی طلب تھی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے عبادت، ذکر اور دن رات ریاضت کے ذریعے حق تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان عبادات سے وقتی سکون تو ملتا تھا مگر دائمی سکون نہ ملتا تھا ۔
باطنی بیعت
12 اپریل 1997ء کی رات نمازِ تہجد کے بعد آپ مدظلہ الاقدس درود پاک پڑھ رہے تھے کہ آپ نے خود کو مسجدِ نبوی میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پایا۔ نورِ ازل آقا و مولا سیدّنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام درمیان میں تشریف فرما تھے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دائیں جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اور بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ اور چاروں سلاسل کے مشائخ کرام تشریف فرما تھے۔ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آگے بڑھ کر آپ مد ظلہ الاقدس کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے پیش کرتے ہوئے آپ کے مبارک قدموں میں بٹھا دیا اور عرض کی ’’حضور! یہ نجیب الرحمن ہے اور آپ کا غلام ہے۔ یہ آپ کی نورِ نظر لختِ جگر (خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا) کا نوری فرزند ہے اور انہوں نے اس کو اپنا ورثہ عطا کرنے کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اس مقصدکے لیے آپ کی بارگاہِ عالیہ میں بھیجا ہے۔‘‘ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس نے جب یہ سنا تو جلدی سے اپنی پیشانی اُن مبارک قدموں پر رکھ دی جن پر دونوں جہان نثار ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا’’ہاں ہمیں سفارش پہنچ چکی ہے اور ہم نے اسے منظور بھی کر لیا ہے۔ اب یہ ہمارا بھی نوری حضوری فرزند ہے مگر ہم انہیں کس فرزند کا ورثہ عطا فرمائیں۔‘‘ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کی ’’نانا حضور! اماں حضور (خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا) نے انہیں ہمارا ورثہ عطا کرنے کا فرمایا ہے۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دونوں دست ِمبارک سے شانوں سے پکڑ کر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کو اپنے قدموں سے اٹھایا اور فرمایا ’’تو ہمارا نوری حضوری فرزند ہے، ہمارا وارث ہے۔ ایک زمانہ تجھ سے فیض پائے گا اور ہم تمہیں اپنی برہان بنائیں گے۔ تونے ہماری لختِ جگر نورِ نظر کو راضی کیا ہے ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کے لیے دونوں دستِ مبارک آگے بڑھائے توآپ مد ظلہ الاقدس نے اپنے دونوں ہاتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک میں دے دئیے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ مد ظلہ الاقدس کو بیعت فرمایا اور اس کے بعد چاروں سلاسل کے مشائخ کی طرف نظر کی اور پیرانِ پیر سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا ’’اس کی وراثت آپ (رضی اللہ عنہٗ) کے پاس ہے۔‘‘ پھر آپ مد ظلہ الاقدس کا ہاتھ سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا ’’یہ ہماری لختِ جگر (رضی اللہ عنہا) کا نور ی حضوری فرزند ہے۔ اب ہمارا اور آپ کا بھی نوری حضوری فرزند ہے۔ ہم اس کو آپ (رضی اللہ عنہٗ) کے سپرد فرماتے ہیں۔ اس کی باطنی تربیت آپ (رضی اللہ عنہٗ) کے ذمہ ہے۔‘‘ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں کہ یہ نعمتِ عظمیٰ پاکر میں نے محفل میں موجود اہلِ بیت اور چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی قدم بوسی کی۔ سب نے آپ کو مبارکباد دی اور سرپر دستِ شفقت رکھا۔ بعدازاں سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت لے کر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے واپس لے آئے اور آپ کی باطنی تربیت شروع ہوگئی۔
مرشد کامل کی بارگاہ میں حاضری اور بیعت
فروری 1998ء کی ایک رات خواب میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے اور فرمایا ’’بیٹا ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، چلے آئو۔‘‘ بیدار ہونے پر آپ مدظلہ الاقدس ان انجانے بزرگ کی تلاش میں نکل پڑے لیکن وہ من موہنی صورت کہیں نظر نہ آتی تھی۔
یکم مارچ 1998ء (2 ذیقعد 1418ھ) پیر کی شب پھر خواب میں سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ نظر آئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے قریب پڑے ہوئے ایک پرانے صندوق کو کھولا۔ اس میں سے سنہری رنگ کا اسمِ اللہ ذات نکل کر بلند ہوا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سر مبارک کے قریب سورج کی طرح چمکنے لگا۔ آپؒ نے فرمایا ’’بیٹا بڑی محنت کر لی اب چلے آئو‘‘ اور اسمِ اللہ ذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا’’ تمہاری یہ امانت کب سے ہمارے پاس تمہارا انتظار کر رہی ہے اور ہم خودبھی تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
آپ مدظلہ الاقدس تلاشِ حق میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک پر پہنچے تو باطنی طور پر حکم ملا کہ سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں جائیں وہی آپ کے مرشد ہیں۔آپ12 اپریل 1998ء (14 ذوالحجہ 1418ھ) کو سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ جیسے ہی آپ مدظلہ الاقدس نے سلطان الفقر ششم کو دیکھا تو پتا چلا یہ وہی بزرگ تھے جو خواب میں اپنے پاس بلاتے تھے۔ نگاہ سے نگاہ ملی اور یار نے یار کو پہچان لیا اور پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی غلامی ہی آپ مدظلہ الاقدس کا مقصدِ حیات بن گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت ہوئے اور اسمِ اللہ ذات کی دولت حاصل کی۔
بیعت کے بعد آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا ہر پہلو عشقِ مرشد، اطاعت مرشد، خدمت مرشد اور فقر کے لیے وقف ہو گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے مرشد پاک کی صحبت، نگاہ اور باطنی تربیت سے وہ مراتب طے کیے جو صرف ریاضت سے ممکن نہ تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی ذات، خواہش، وقت، مال، صلاحیت اور زندگی بلکہ سب کچھ مرشد پر نثار کر دیا۔

عشقِ مرشد اور خدماتِ مرشد
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی حیات کا ایک نہایت اہم پہلو عشقِ مرشد ہے ۔ آپ مدظلہ الاقدس نے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھا اور ہر حکم پر کامل اطاعت کے ساتھ عمل کیا۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے مرشد کے رضا کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی ذات کو فنا کر کے مرشد کی خدمت اور مرشد کے مشن کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا۔
امانتِ الٰہیہ کی منتقلی اور مسندِ تلقین و ارشاد
امانتِ الٰہیہ کا منتقل ہونا محض خلافت یا ظاہری جانشینی نہیں بلکہ فقرِ محمدی کی وہ باطنی وراثت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے مرشد کامل اپنے سب سے محبوب اور قابل مرید کو منتقل کرتا ہے۔
1998ء سے2001ء تک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو ظاہری اور باطنی طور پر بہت سی آزمائشوں میں سے گزارا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیقِ الٰہی کی بدولت آپ مدظلہ الاقدس ہر آزمائش اور امتحان میں پورے اترے۔ ۲۱ مارچ ۲۰۰۱ کو آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے مدینہ شریف میں آپ مدظلہ الاقدس کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے منظور فرما لیا۔
پھر آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد نے آپ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ہمیں تو دِل کا محرم مل گیا ہے۔
وہیں پر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس پر کرم اور مہربانی فرما دی اور باطنی طور پر سیراب کردیااور ساتھ ہی باطنی طور پر اس راز کو راز رکھنے کیلئے طاقت بھی عطا فرما دی۔
سلطان الفقر ششم کے وصال کے بعد سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز اور آپ نے طالبانِ مولیٰ کو اسمِ اللہ ذات اور سلطان الاذکار “ھو” عطا فرمانا شروع کیا۔ تاریخ ِ فقر وتصوف میں پہلی بار ایسا ہوا کہ بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکار ھو عطا کیا جانے لگا۔ اس طرح آپ مدظلہ الاقدس نے طالبان مولیٰ کا سفر اور بھی آسان کر دیا۔
دعوتِ فقر اور موجودہ دور
موجودہ دور مادیت، نفس پرستی، ظاہری پرستی اور انتشار کا دور ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کو خواص تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عام انسان تک پہنچانے کی جدوجہد فرمائی۔ آپ کی دعوت کا مرکز اسمِ اللہ ذات، ذکر و تصور، تزکیہ نفس، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، محبتِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور معرفتِ الٰہی ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس نے یہ واضح فرمایا کہ فقر سے مراد تنگدستی نہیں بلکہ فقر دل کی پاکیزگی، اللہ کی پہچان، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حضوری اور باطن کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ذکر وتصور اسمِ اللہ ذات اور مرشد کی ضرورت ہے۔
تحریک دعوتِ فقر کا قیام
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد کے مشن کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے تحریک دعوتِ فقر قائم فرمائی۔ اس تحریک کا مقصد فقرِ محمدی کو عام کرنا، اسمِ اللہ ذات کی دعوت کو دنیا بھر تک پہنچانا، طالبانِ مولیٰ کو مرشد کامل کی بارگاہ تک رہنمائی دینا، باطنی تربیت کا انتظام کرنا اور سلسلہ سروری قادری کی تعلیمات کو واضح، منظم اور مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔
تحریک کے آئین میں یہ بات نمایاں ہے کہ یہ کوئی سیاسی جماعت یا فرقہ وارانہ تنظیم نہیں بلکہ فقر کی دعوت، اصلاحِ باطن اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔
خانقاہ کا قیام
خانقاہ کا مقصد طالبانِ مولیٰ کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں صحبت مرشد میسر ہو تا کہ تزکیہ نفس ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے خانقاہ سلطان العاشقین کی بنیاد رکھی۔

تصانیف، اشاعت اور علمی خدمات
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی شخصیت کا ایک اہم پہلو علمی و تصنیفی خدمت ہے ۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فقر، اسمِ اللہ ذات، حقیقتِ محمدیہ، خلافتِ راشدہ، اہلِ بیت رضی اللہ عنہم، سلسلہ سروری قادری، سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات اور دیگر تصوف کےموضوعات پر تحریری و اشاعتی خدمات سرانجام دیں۔
آپ کی تصانیف کا مقصد محض معلومات دینا نہیں بلکہ طالبانِ حق کو فقر کی حقیقت سمجھانا، باطنی راستے کی غلط فہمیوں کو دور کرنا، مرشد کامل کی ضرورت واضح کرنا اور اسمِ اللہ ذات کے فیض کو عام کرنا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کی تعلیمات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اشاعت، تراجم، رسائل، کتب اور دیگر ذرائع سے عام فرمایا تاکہ حق کے طالب دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، وہ فقرِ محمدی کی دعوت تک رسائی حاصل کر سکیں۔
محاسنِ اخلاق اور شخصیت
سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے محاسن و اخلاق، حسن و جمال، معمولاتِ زندگی، گھر والوں سے محبت، مریدین سے شفقت اور عام لوگوں سے حسنِ سلوک بے مثال ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت میں جمال، شفقت ، محبت و وقار، سنجیدگی و حلم، سخاوت و خدمت شامل ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس طالبانِ مولیٰ کی اصلاح کے لیے کبھی شفقت فرماتے ہیں ،کبھی دعا سے مدد فرماتے ہیں اور کبھی نگاہِ کرم سے طالب کے باطن کو بدل دیتے ہیں۔
ساتویں سلطان الفقر کی حیثیت
سلطان العاشقین ‘سلطان الفقر ہفتم’ کے مقام پر فائز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے فیض، امانت اور مشن کے وارث ہیں۔ آپ نے فقر کو جدید دور میں منظم، واضح، عام فہم اور عالمی سطح پر قابلِ رسائی بنانے کے لیے غیر معمولی خدمات سرانجام دیں۔
ساتویں سلطان الفقر کی حیثیت سے آپ مدظلہ الاقدس کا دور اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ دنیا میں مادیت، نفس پرستی، غفلت اور انتشار بہت بڑھ چکا ہے۔ ایسے دور میں آپ کی دعوت انسان کو اس کی اصل حقیقت کی طرف لوٹاتی ہے۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی مبارک ہستی موجودہ دور کے طالبانِ حق کے لیے رحمت، رہنمائی اور نورِ فقر کا سرچشمہ ہے۔ ۔